• Cricketnewspk

فاتح کی یلغار

Updated: Oct 12


سلطان محمد خان 6 اپریل 1453 بمطابق 26 ربیع الاول857 کو اپنی بہادر افواج کے ہمراہ خشکی کی جانب سے قسطنطنیہ کی فصیل کے سامنے نمودار ہوئے۔شہر کے سب دروازے بند تھے اور قسطنطنیہ کا پورا شہر فصیل پر چڑھ کر دور سے دھول اڑاتے ہوئے سلطان کے لشکر کو دیکھ رہا تھا۔قاسم گزشتہ پندرہ روز سے اسی لشکر کے ہمراہ تھا اور وہ اب اپنے عزیز دوست سپہ سالار آغا حسن کی ماتحتی میں اپنے سابقہ عہدے پر برقرار ہو چکا تھا۔قاسم کے ماتحت لڑنے والے مسلمان سپاہیوں کو اپنے سابق سالار کے کے واپس آجانے پر بے پناہ خوشی ہوئی اور وہ تمام قاسم کے ساتھ بغلگیر ہوکر ملے۔اس مرتبہ عثمانی فوج کا ہر سپاہی فتح یا شہادت کے جذبے سے سرشار تھا۔خصوصا آغا حسن کے وجیہہ چہرے پر ولولہ جہاد کی دلفریب لہر دیکھی جاسکتی تھی۔


قاسم جب سلطان محمد فاتح کے پاس پہنچا تو سلطان قاسم کی آمد کا سن کربیتاہانہ اپنے خیمے سے باہر نکل آئے تھے اور انہوں نے قاسم کو یوں واالہانہ انداز میں گلے سے لگایا تھا جیسے مدتوں کے بچھڑےدوست اچانک سر راہ مل جائیں ۔قاسم نے سلطان کو اپنی تمام کارکردگی سنائی اور مقدس بطلیموس کی فراہم کردہ قسطنطنیہ کی چابیاں سلطان کے حوالے کیں ۔بعد ازاںقاسم نے سلطان کو مقدس نقشہ پیش کیاتو سلطان خوشی سے اچھل کھڑے ہوئے اور قاسم کو ایک بار پھر گلے لگا لیا۔قاسم نے سلطان کو نقشے کی تفصیلات سمجھائیں اور چودہ میل لمبی فصیل کے کمزور مقامات کی نشاندہی کی۔اس روز قاسم سلطان کے ہمراہ رات بھر بیٹھا رہا یہاں تک کہ لشکر کے مؤذن نے اللہ اکبر کی صدا بلند کی۔اگلے روز قاسم اپنے اہل خانہ سے ملا،اس کی بیوی شہزادی حمیرا رضا کا عورتوں کی سالار تھی۔قاسم کو حمیرا کے اس اقدام سے بے حد خوشی ہوئی ۔قاسم آہن گر "اربان" سے بھی ملا یہ وہ ہی شخص تھا جسے "ادرنہ" میں سب سے پہلے قاسم کےہی ساتھ واسطہ پڑا تھاگزشتہ پندرہ دنوں سے قاسم کے لشکر کے ہمراہ چل رہا تھا اور آج 6 اپریل 1453کے دن قاسم عثمانی لشکر کے ہمراہ ایک بار پھر قسطنطیہ کے سامنے پہنچ چکا تھا۔

ادھر سلطان کے امیر البحر "بلوط اغلن"کے جنگی جہاز جب آبنائے باسفورس میں داخل ہوئے تو ان کا استقبال کرنے کے لئے پرجوش بوڑھا عباس اپنے جہازوں سمیت موجود تھا۔بلوط اغلن نے آتے ہی "نارمن" کے بحری بیڑے کو دور تک پیچھے دھکیل دیا اور پوری کی پوری آبنائے باسفورس پر مکمل قبضہ کر لیا۔اب شہر کے عقبی سمندر پر بھی عثمانی بحریہ کا قبضہ ہو چکا تھا اور یورپی جہاز آبنائے باسفورس کو خالی کرکے بحر مارمورا کے وسط تک پیچھے ہٹ گئے تھے۔رومیوں کے لئے صرف در دانیال کا راستہ کھلا تھا اور وہ بھی ایسی صورت میں جب عثمانی بحریہ کی کشتیاں در دانیال کے پانی میں گشت پر نہ ہوتیں۔ البتہ گولڈن ہارن میں بھاری اسلحہ برادر مسیحی جہاز ابھی تک موجود تھےاور "گولڈن ہارن "کے دہانے پر لوہے کی بھری بھرکم زنجیر تنی ہوئی تھی۔رومی بحریہ کے جہاز دن بھر "بلوط اغلن" کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہتے وہ بحر مارمورا سے کبھی کبھار آبنائے میں داخل ہوجاتے اور عثمانی بحریہ کا اچھا خاصہ نقصان کرکے واپس بھاگ جاتے ۔گولڈن ہارن کےافسر وقتا فوقتا ترکی بحریہ کے ساتھ پنجہ آزمائی کرتے رہتے تھے اور یوں گویہ قسطنطنیہ کے دو اطراف میں ترکوں اور رومیوں کے درمیان باقاعدہ بحری جنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔قسطنطنیہ کی تیسری سمت میں گولڈن ہارن واقع تھی جس کا راستہ فی الحال بند تھا۔


شہر کے سامنے پہنچ کر سلطان نے اپنا شاہی خیمہ"سینٹ رومانس "کے دروازے کے عین سامنے نصب کروایا تھا۔سلطان نے لشکر کو پڑاؤ کا حکم دیا اور قسطنطنیہ کے محاصرے کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔سلطان نے سپاہوں کو خیمے لگانے کا حکم دے دیا اور خود اپنے سفد گھوڑے پر سوار ہوکر فصیل شہر کے سامنے تمام علاقے کا گشت کرنے لگے۔سلطان کے نامور سپہ سالار ان کے دائیں بائیں گھوڑوں پر سوار تھے اور سلطان محمد خان آل عثمان کے مخصوص جاہ و جلال کے ساتھ محاصرے کے مختلف مقامات کا جائزہ لینے لگے۔سلطان نے جابجا بہادر دستوں کو متعین کیا اور فصیل کی مختلف کمزوریوں کو زہن نشین کر کے اپنی خطرناک توپیں نصب کرنے کا حکم دیا۔سلطان نے بیلداروں کے سردار کو بلواکر ساباط اور سرنگیں بنانے کا حکم دیا۔یہ ساباط دراصل لکڑی کے قدآدم کیبن تھے جن کے نیچے پہیے لگائے گئے تاکہ سپاہی ان کے عقب میں خود کو چھپا کر ان کی چھجوں کو آگے سے آگے دھکیلتے ہوئے شہر کی طرف بڑھ سکیں ۔لکڑی کے ساباط سپاہیوں کو تیرانداز سنگ باری سے محفوظ رکھ سکتے تھے۔سلطانی لشکر خیمہ زن ہوگیا اور 6 اپریل کو صبح سے لے کر شام تک تمام عیسائی شہر فصیل پر کھڑے ہوکر عثمانی لشکر کی کاروائی دیکھتے رہے۔

7 اپریل 1453ء کے روز "سینٹ رومانس" دروازے کے پیچھے " جان جسٹنیانی" اپنے آہن پوش بہادروں سمیت دروازوں سے باہر نکلنے کے لئے تیار کھڑا تھا۔اس کے عقب میں سپہ سالار نوٹاراس اپنے سوار لئے کھڑا تھا۔طلوع آفتاب کے کے کچھ دیر بعد لڑائی کے لئے بے تاب عیسائی سپاہی سینٹ رومانس کا دروازہ کھول کر آندھی اور طوفان کی طرح نکلے اور باہر نکلتے ہی ان کا تربیت یافتہ لشکر خود بخود ایک خاص نظم وضبط میں آگیا۔جنیوی فوج کا سپہ سالار جان جسٹنیانی اپنے سوار دستوں کو لے کر صف آرا ہونے لگا،اسی طرح سپہ سالار نوٹاراس نے اپنی صفیں درست کیں اور عیسائی فوجی ملسمان لشکر پرٹوٹ پڑنے کے لئے بےحد بے تاب نظر آنے لگے۔اگلے ہی لمحے ایک جوشیلا عیسائی میدان میں اترا دونوں مبارزین ایک دوسرے کے سامنے اپنے گھوڑوں پر بیٹھے اترا رہے تھے۔مسلمان سپاہی "عبداللہ" تو گویا اپنے دشمن کا منتظر تھا۔اسے آتے ہی اپنے مخالف کو آڑے ہاتھوں لیا۔لوہے سے لوہا ٹکرانے کی آواز فزا میں گونجی پہلے چھناکے کے ساتھ ہی دونوں لشکروں کے سپاہیو ں نے اپنے اپنے نعرے بلند کئے۔فصیل شہر پر متعین سپاہیون کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں عام شہری بھی جنگ کا نظارا کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔


دونوں مبازرین کافی دیر تک ایک دوسرے کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتے رہے داؤ پر داؤ کھیلتے رہے اور بالآخر عبداللہ ے کھیل ختم کرنے کا فیصلہ کیا ۔انہوں نے یکا یک اپنے حملے تیز کردئیے رومی سپاہی کے لئے عبداللہ کے کاری وار بچانا مشکل ہونے لگے تو بھاگ کھڑا ہوا اس کا گھوڑا اپنے لشکرر کی جانب سرپٹ دوڑ رہا تھا۔پہلے پہل عیسائیوں کے قدم اکھڑے لیکن پھر اچانک بہادر جسٹینانی نے خود سب سے آگے بڑھ کر اسلامی لشکر کے قلب پر ایک خطرناک حملہ کردیا۔ وہ ینی چری کے بہادروں کو درہم برہم کرتا ہوا عثمانی پرچم کی جانب بڑھنے لگا۔جسٹینانی کی تلوار بجلی کی طرح لپک رہی تھی اور اس کا ایک ایک وار عثمانی سپاہیوں کے لئے جراٗت وشجاعت کی علامت بنتا جا رہا تھا۔سلطان خود ایک ٹیلے پر کھڑے جسٹینانی کی شجاعت ملاحظ کر رہے تھے۔سلطان کے چہرے پر بے اختیارجسٹینانی کے لئے داد و تحسین کے جذباتابھر آئے۔قلب کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھا تو سپہ سالار آغا حسن نے اپنے بکھرتے ہوئے ساتھیوں کو مجتمع کیا اور جسٹینانی کے سامنے جم گیا۔دونون لشکر دو گھنٹے تک آپس میں گتھم گتھا رہے اور پھر عیسائی فوجی پہلے سے طئے شدہ منصوبے کے تحت پیچھے کی طرف سمٹنے لگے۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے میدان کا رزار عیسائیون سے خالی ہوگیا۔شہر کے دروازے اپنے سپاہیوں کے لئے کھول دیے گئے اور شہرویوں نے اپنے بہادروں کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے۔تمام عیسائی فوجی قسطنطنیہ میں داخل ہوگئے تو سینٹ رومانس کا دروازہ بند کر دیا گیا اور رومی محصور ہوکر ترکوں کو ان کے حملوں کا ترکی بہ ترکی جواب دینے لگے۔قیصر قسطعطین خود فصیل شہر کے ایک بڑے برج پر موجود تھا۔فصیل شہر کے آگے چوڑی خندق کھدی تھی جس میں پانی چھوڑ کر اسے بھر دیا گیا تھا۔

مسلمان سپاہیوں نے دن بھر لڑائی میں فصیل شہر کے نزدیک پہچنے کی جتنی بھی کوشش کی تھیں وہ تمام ناکام رہی تھی۔چناچہ سلطان محمد خان نے اپنے سالاروں کی مشاورت طلب کی اور فصیل شہر کی خندق کو پاٹنے کے مشورے مانگے۔اگلے روز مسلمانوں نے علی الصبح خندق کو جگہ جگہ سے ملبے کےذریعےبھرنا شروع کردیا۔یہ شہر سے بیرونی خندق تھی اور زیادہ گہری نہ تھی۔دوپہر تک بڑی مشکل کے ساتھ خندق کوکئی جگہ سے پاٹ کر راستےبنائے گئےاور اس طرح عثمانی فوج فصیل شہر کے عین نیچے پہنچ گئی۔لیکن فصیل کے اوپر ان کا کوئی بس نہ چل سکا۔اوپر سے عیسائیوں نے روغن نقط جلا جلا کر ان پر پھینکنا شروع کر دیا۔جلتی ہوئی تیل کی ہانڈیاں ترکوں کی ڈھالوں سے ٹکرا کر ٹوٹتیں تو خاصا جانی نقصان کرتیں۔مجبورا عثمانی فوج کو فصیل کے نیچے سے پسپا ہونا پڑا اور اس طرح یہ دن بھی بے نیل دمرام گزرگیا۔اگلے روز بھی جوش وجذبے سے لبریز عیسائیوں نے ترکوں کی ایک نہ چلنےدی۔اب سلطان نے ایک اور ترک سوچی۔اس نےلکڑی کے مضبوط تختے جڑوا کر اونچے اونچے چوبی مینار بنوائے جو فصیل شہر کے برابر بلند تھے۔لکڑی کےان مینارون کے نیچے پہئے لگائے گئے جس کی بدولت انہیں آسانی سے حرکت دی جاسکتی تھی۔ان چوبی میناروں کے اوپری سرے کے ساتھ لکڑی کی لمبی لمبی سیڑھیاں باندھی گئیں اور پھر سلطان نے اپنے پہادر سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہان میناروں کو خندق کے کنارے لے جاکر اور ان سیڑھیوں کو اوپر اٹھا کر ان کا دوسراسرا قلعے کی دیوار پر رکھ دیں اس طرح خندق کے اوپر ایک پل سا بندھ جانے کی توقع تھی۔ان چوبی میناروں کا سارا کام سپہ سالار آغا حسن نے اپنے ہاتھ لیا اور خود سب سے پہلے اپنے مینار کو خندق کے کنارے لے جاکر اس کی سیڑھی کو قلعے کی دیوار پر رکھ دیا۔محصورین نے نہایت مستعدی اور چاہکدستی کے ساتھا میناروں پر رال کے جلتے ہوئے گولے پھینکنے شروع کر دئیے۔لکڑی کی سیڑھیوں نے آگ پکڑ لی اور سلطانی فوج کے مینار جلنے لگے۔سلطان کے سپاہی بڑی مشکل سے اچھا خاصا نقصان کروا نے کے بعد واپس لوٹ آئے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔


آج جنگ کو باقاعدہ شروع ہوئے ساتواں دن تھا۔قاسم بن ہشام پچھلے چند دنوں سے سلطانی لشکر میں دکھائی ہیں دے رہا تھا۔سلطان محمد فاتح جب اپنے خیمے میں میں لوٹے تو قاسم بن ہشام ان کے منتظر تھے۔قاسم بن ہشام نے سلطان محمد خان کو خبر سنا کر مسرور کر دیا ،قاسم نے سلطان کو بتایا کہ سلطان معظم مجھے مصدقہ ذرائع سے یہ خبر ملی ہے کہ آج سے صرف دو روز بعد یعنی 15 اپریل کو جنیوا کے نو بڑے جہاز غلہ اور گولہ بارود لے کر قسطنطنیہ پہنچے ولے ہیں ۔وہ آبنائے باسفورس کو لڑتے بھڑتے عبور کرتے ہوئے گولڈن ہارن کی بندرگاہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں ۔ سلطان نے اپنے ماہر جاسوس قاسم بن ہشام کی اطلاع سنی تو خوشی سے پھولےنہ سمایا۔سلطان نے امیر البحر کو فوری طور پر پیغام بھجوایا کہ وہ ان جہازوں کو صحیح سلامت گرفتار کرنے کی کوشش کرے اور پھر 15 اپریل کو قاسم بن ہشام کی خبر سچ نکلی۔جنیوا کے چار غلے اور گولہ بارودسے لدے جہاز اچانک آبنائے باسفورس کے دہانے پر نمودار ہوئے یہ جہاز عثمانی بحریہ کے جہازوں کی نسبت زیادہ بڑے اور مضبوط تھے۔ترکی امیر البحر "بلوط اغلن " نے ان جہازوں کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن جنیوی ملاح جذبہ شہادت سے سرشار تھے وہ ترکی جہازوں کی صفون کو چیرتے پھاڑتے ہوئے صاف بچ کر نکل گئے اور گولڈن ہارن میں داخل ہوکر شہر والوں کو یہ گران قدر امداد پہنچانےمیں کامیاب ہوگئے۔

سلطان کو اپنے امیر البحر کے ناکام ہونے کی اطلاع ملی تو سلطان غصے کی حالت میں اٹھے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر خود سمندر کے کنارے جا پہنچے۔جنیوی جہازوں کے کامیابی سےہمکنار ہونے کی خبر نے قسطنطنیہ کے شہریوں میں ایک نئی روح پھونک دی ۔عوام تک اڑتی خبر یہ بھی جا پہنچی کہ ابھی جنیوی بیڑے کے مزید پانچ جہاز بھی بحرمارمورا میں موجود ہیں جو کچھ دیر بعد آبنائے باسفورس میں داخل ہونے والے ہیں ۔لوگ جو ق در جوق عقبی فصیل کی جانب دوڑے اور آن کی آن میں قسطنطنیہ کے ہزاروں شہری ایک جم غفیر کی شکل میں فصیل شہر پر نظر آنے لگے۔ادھر عثمانی بری فوج کے ہزاروں سپاہی اس دلچسپ بحری جنگ کا ولولہ انگیز منظر دیکھنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ ہزاروں نگاہیں سمندر کی لہروں پر مرکوز تھیں لوگوں نے دیکھا کہ جب جنیوی جہاز سمندر میں داخل ہوئے تو عثمانی بحریہ نے بڑے جوش وخرش کے ان جہازوں پر حملہ کرکے ان کی لمبی قطار کو توڑ دیا اور وہ ایک ہی جگہ آگے پیچھے اور پہلو بہ پہلو اکٹھے ہو گئے۔عثمانی جہازوں نے چاروں طرف سے جنیوی بحریہ کے ان پانچوں جہازوں کو گھیر لیااور ان پر آتش و آہن برسانے لگے۔عچمانی جہاز جب پوری طرح مسیحی جہازوں پر غالب آگئے تو بلوط اغلن نے اپنے جہازوں کو مسیحی جہازوں کے ساتھ لگادیا۔اسلامی بحریہ کے مجاہدوں کی یہ خواہش تھی کہ وہ کسی طرح مسیحی جہازون پر سوار ہو جائیں اور ان کے ملاحوں کو قتل کر کے ان کو گرفتار کرلیں لیکن جنیوی جہاز اس قدر بڑے اور بلندتھے کہ عثمانی سپاہی اپنے چھوٹے اور پست جہازوں سے ان پر کسی طرح نہ چڑھ سکے۔شروع شروع میں جب عثمانی جہازوں نے عیسائیوں کو گھیرلیا تو دیکھنے والی نگاہوں کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ پانچوں جہاز ضرور گرفتار ہوجائیں گے لیکن پھر اچانک فصیل شہر کی جانب سے اس وقت فلک شگاف شور بلند ہوا جب محصور عیسائی جہاز ترکوں کا محاصرہ توڑ کر بڑی تیزی سے "گولڈن ہارن" کے دروازے پر آپہنچے۔محصورین نے فوراً زنجیر نیچے کر دی اور جنیوی جہاز گولڈن ہارن میں داخل ہوگئے۔سلطان محمد خان نے اپنی بحری فوج کی اس ناکامی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کو سخت ملال ہوا۔عیسائی جہاز ہاتھ سے نکلنے لگے تو سلطان سے ضبط نہ ہو سکا اور انہوں نے بے اختیار ہو کر اپنا گھوڑا پانی میں ڈال دیا۔


سلطان نے غصے کے عالم میں امیر البحر کو بلوایا اور غم و غصے سے بے قابو ہوکر امیر البحر پر ہاتھ اٹھا دیا لیکن امیر البحر کی اس میں کوئی خطا نہیں تھی۔ اس نے تو اپنے چھوٹے جہازوں کے ذریعے عیسائیوں کے دیوہیکل جہازوں کو محصور کر لیاتھا۔ ملسمانوں کے لئے ان جہازون پر سوار ہونا ناممکن تھا البتہ سلطان کی تنبیہ سے امیر البحر مستعدد ہو گیا اور اس کے بعد کسی اور جہاز کو یہ جراٗت نہ ہوئی کہ وہ در دانیال کو عبور کرکے بحر مارمورا میں داخل ہو سکے۔ان پانچ جہازوں میں کو فوج سوار ہو کر آئی تھی یہ گویا قسطنطنیہ کے لئے آخری بیرونی امداد تھی۔سلطان نے محاصرہ کے کاممیں انتہائی درجہ کی مستعددی دکھائی بار بار نقصان اٹھانا پڑا بار بار حملے ناکام اور بے نتیجہثابت ہوئے۔محصورین کی ہمتیں اپنی کامیابیوں کو دیکھ دیکھ کر اور بھی زیادہ بڑھتی رہیں ۔شہر کے اندر سامان رسد کی مطلق کمی نہ تھی۔ وہ برسون محصور رہ کر مدافعت پر ثابت قم رہنے کا ارادہکر چکے تھے۔ ان کو یہ بھی توقع تھی کہ ہنگری کا بادشاہ"ہونیاڈے" اپنے عہد نامہ صلح کو توڑ کر ضرور شمال کی جانب سے حملہ آور ہوگا اور قسطنطنیہ کا محاصرہ اٹھ جائے گا ۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے سلطان محمد خان کی جگہ کوئی دوسرا شخص ہوتا تو یقینا محاصرہ اٹھا کر چل دیتا اور اس کام کو کسی دوسرے وقت پر ٹال دیتا مگر سلطان اپنے ارادے کا پکا اور ہمت کا دھنی تھا۔ان کے عزم واستقلال میں کوئی کمی نہ آئی اور ان کے ارادے ہر ناکامی کو دیکھ کر اور زیادہ مضبوط ہوتے گئے۔

سلطان محمد خان جب "ادرنہ" سے چلا تھا تو اس نے اپنے ہمراہ علماء ،فضلاء،عابدوں اور زاہدوں کی ایک جماعت بھی رکھی تھی،ان برگزیدہ لوگوں کی محبت سے مستفیض ہونے کا خیال ان کو شروع سے ہی تھا۔درویش صفت سلطان مراد خان ثانی نے اپنی زندگی کے آخری چھ سالون میں سلطان محمد خان کو "ایدین" کے علماءصوفیاء کی محفل میں بھیج دیا تھا،انہی نیک لوگو نسے محبت سے ان کے ارادوں میں استقلال اور حصولوں میں بلندی پیدا ہوئی تھی ۔دوران محاصرہ بھی وہ ان لوگوں سے مشورےکرتے رہے۔اپنی پہلی بحری شکست کے بعد محاصرہ میں مزید سختی پیدا کرنے کے لئے ایک روز سلطان محمد خان کو ایک اسی تاریخی تدبیر سوجھی جس نے سلطان محمد خان ثانی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے" سلطان محمد فاتح"بنادیا۔ سلطان کو اندازہ ہو چکا تھاکہ آبنائے باسفورس کے اس حصہ میں جہاں پانی زیادہ گہرا تھا ترکی بیڑا عیسائیوں کے طاقتور جہازون کے مقابلے میں مشکل سے کامیاب ہو سکتا ہے۔لہٰذا اس نے فیصلہ کیا کہ کشتیوں کی ایک بڑی تعداد اور بہت سے بحری جہاز جو عیسائی بحریہ سے نسبتا چھوٹے تھے،بندرگاہ کے بالائی حصے میں منتقل کردئیے جائیں جہاں پانی تنگ اور چھلچھلا تھا۔بندرگاہ کا بالائی حصہ گولڈن ہارن پر مشتمل تھا اور گولڈن ہارن پر کوئی زد نہ پڑ سکتی تھی۔محاصرین تمام ہمت خشکی کی جانب صرف ہو رہی تھی۔خاص کر سینٹ رومانس والے دروازے کی جانب آلات قلعہ کشائی زیادہ کام میں لائے جا رہے تھے۔لہٰذا اہل قسطنطنیہ بھی باقی اطراف سے بے فکر ہو کر اس جانب اپنی پوری قوت مدافعت صرف کر رہے تھے۔


سلطان محمد خان ایک ناممکن کام کوممکن بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔سلطان نے یہ کیا کہ آبنائے باسفورس کے گہرے پانی میں گشت کرنے والے اپنے جہازوں اور کشتیوں کو گولڈن ہارن میں داخل رنے کے لئے جہازوں کو پانی کے بجائے خشکی پر چلانے کی عجیب و غریب تجویز پیش کی۔سطان کا فیصلہ دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد اور محیرالعقل یادگارنبنے والا تھا۔ان کا فیصلہ یہ تھا کہ جہازوں کو گولڈن ہارن میں پہنچانے کے لئے انہیں دس میل تک خشکی پر چلا کر لے جائے گا اس کے لئے باسفورس کے مغربی ساحل سے جہاز خشکی پر چڑھا کر انہیں گولڈن ہارن میں ڈال دیا جائے گا۔خشکی کا یہ درمیانی علاقہ تقریبا دس میل لمبا اور سخت ناہموار اور پہاڑی اتار چڑھاؤ سے بھرپور تھا۔سلطان نے ماہ جمادی الاول کی چودہ تاریخ کو جب چاند کی چاندنی ساری رات پورے علاقے کو روشن رکھ سکتی تھی،باسفورس سے لے کر بندرگاہ گولڈن ہارن تک برابر لکڑی کے تختے بجھوادیے،یہ سلطان کی اولو العزمی کا ایک محیر العقل عجوبہ تھا۔سلطان نے یہ کام ایک رات میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔انہون نے دس میل کے راستے پر تختے بچھوا کر چربی ڈلوادی اور چکناہٹ سے لکڑی کے وہ تمام تختے ایک خشک سمندر بن گئے۔فصیل شہر سے ادن بھر لوگ سلطانی سپاہیوں کو تختے بچھاتے اور چربی ملتے دیکھتے رہے لیکن وہ حیران تھے کہ آخر مسلمان کیا کر رہے ہیں ؟ رات ہوتے ہی سلطانی سپاہیوں نے اپنے بہترین 80 جہازوں کو کھینچ کر لکڑی کے تختوں پر چڑھا لیا۔ان 80 جہازوں کی ٹرین جب خشکی پر چڑھ آئی تو ان میں باقاعدہ ملاحوں اور بحری سپاہیوں کو سوار کیا گیا اور پھر ہزارہا آدمیوں نے دونوں طرف سے ان جہازوں کو دھکیلنا شروع کر دیا۔اس مقصد کے لئے ہوا کے جھونکوں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔چناچہ سلطان نے اپنے جہازوں کے بادبان کھول دیے،جہازوں کی اس ٹرین کو کھینچنے کے لئے انسانوں کے علاوہ بیلوں نے بھی اپنا پورا زور لگایا ۔راستہ طویل اور دشوار گزار تھا۔چاند کی چاندنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی اور چاندنی رات میں ہزاروں آدمیوں کا شور وغل ،خوشی کے نعرے اور فوجی گیت فصیل شہر پر موجود عیسائی سنتے رہے۔اور یہ سوچ سوچ کر حیران ہوتے ہے کہ آخر آج مسلمان کیا کر رہے ہیں ۔

قسطنطین نے خود فصیل پر پہنچ کر مسلمانوں کی نقل و حرکت کو ملاحظہ کیا اسے عثمانی فوج کے باجے سنائی دیے لیکن اس سے زیادہ وہ کچھ نہ سمجھ سکا کہ مسلمان خوشی منا رہے ہیں ۔رات بھر 80 جہازوں کا یہ جلوس سفر کرتا رہا اور قسطنطنیہ کے عیسیائی آخر وقت تک کچھ نہ سمجھ سکے،بالآخر جب صبح کے اجالے نے راز سے پردہ اٹھایا تو سلطانی لشکر کے 80 جہاز اور بھاری توپ خانہ گولڈن ہارن میں منتقل ہوچکا تھا۔اہل قسطنطنیہ نے عثمانی بحریہ کے 80 اسلحہ برداز جہازوں کو گولڈن ہارن میں موجود دیکھا تو پورے شہر کی سانسیں رکنے لگیں یہ کیا ہو گیا؟ یہ تو نا ممکن بات ممکن ہوگئی تھی۔اہل قسطنطنیہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔انہوں نے دیکھا کہ عثمانی جہازون نے فصیل شہر کے نیچے ایک پل بنا دیا تھا اور اپنی توپوں کو مناسب مقامات پر رکھ کر اس طرف کی فصیل پر گولہ باری کرنے کی تیاری شروع کر دی تھی۔یہ دیکھ کر عیسائیوں کے حواس جاتے رہے۔قسطنطین کے جو جہاز گولڈن ہارن میں موجود تھے وہ سب کے سب گولڈن ہارن کے دہانہ کے قریب آہنی زنجیر کے متصل صف بستہ تھے تاکہ کسی کو اندر داخل نہ ہونے دیں۔شہر کے قریب بندرگاہ کی نوک پر ان کو رہنے کی ضرورت نہ تھی۔قسطنطین کے جہازوں نے عثمانی بحریہ گولڈن ہارن میں دیکھا تو ان پر حملہ کرنے کے لئے بڑھے۔یہ 24 مئی 1453ء کا دن تھا اس روز قسطنطین نے سلطان کے پاس پیغام بھیجا " آپ کس قدر خراج مجھ پر مقرر کریں میں ادا کرنے کو تیار ہوں ۔مجھ کو اپنا باجگزارکر قسطنطنیہ میرے پاس رہنے دیجیے۔"


سلطان کو اس وقت اس بات کا یقین ہو چکا تھا کہ وہ شہر کو فتح کر لے گا۔چناچہ انہوں نے قسطنطین کو جواب دیا۔

" اگر تم اطاعت قبول کرتے ہو تو تم کو یونان کا جنوبی حصہ دیا جاسکتا ہے لیکن قسطنطنیہ کو میں اسلامی سلطنت میں شامل کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔"

سلطاب جانتا تھا کہ قسطنطنیہ کی عیسائی سلطنت جو سلطنت عثمانیہ کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ جب تک قائیم رہے گی خطرات سد باب نہ ہوگا۔وہ قسطنطین اور اس کے پیش روقیاصرہ کی مسلسل شرارتوں سے بخوبی واقف تھے۔بالآخر سات ہفتوں کی متواثر گولہ باری کے بعد قسطنطنیہ کی فصیلوں میں پہلی بار تین مختلف مقامات سے بڑے بڑے شگاف نمودار ہوگئے۔وہ فصیلیں جو صدیوں سے ہر دشمن کے تششد کا سامنا کر رہی تھی وہ عثمانی توپوں کا مقابلہ نہ کر پائٰیں اور عثمانی توپوں نے ان کا حلیہ بگاڑ دیا۔

سلطان نے قسطنطین کو پیغام بھیجا کہ اگر وہ شہر کو ان کے حوالے کر دے تو رعایا کے جان ومال سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا اور "موریا" کی حکومت اس کو دی جائے گی لیکن قسطنطین نے اسے منظور نہیں کیا۔چناچہ سلطان محمد خان نے اپنے لشکر میں اعلان کرادیا کہ 20 جماد الاول یعنی 29 مئی کو آخری اور فیصلہ کن حملہ ہوگا اور سرکاری عمارات کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔سلطان نے اعلان کیا کہ کسی بچے ضعیف،عورت اور اسلحہ ڈالنے پر ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا۔مسلمان لشکر میں رات بھر خوشی کے نعرے بلند ہوتے رہے۔ادھر شہر کے اندر قصر شاہی میں قسطنطین نے اپنے سپہ سالاروں ،عمائدین ،سلطنت اور امراء شہر کو مدعو کر کے ایک جلسہ منعقد کیا اس کو پتا چل گیا تھا کہ کل فیصلہ کن حملہ ہوگا اس لئے انہوں نے شہریوں کو آخری دم تک لڑنے اور مرنے کی ترغیب دی اور خود بھی بھرے مجمع ہے یسو مسیح کی قسم کھا کر کہا کہ وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک ترکوں کا مقابلہ کریں گے۔عثمانی لشکر نے رات بھر ذکر وتسبیح اور دعائیں کی۔

سلطان محمد خان ایک عزم کے ساتھ اٹھا اور فصیل شہر کے نزدیک ایک مقام پر انہوں نے دو رکعت نماز باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا۔زمین کا وہ حصہ جہاں سلطان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز ادا کی وہ جگہ ہمیشہ کے لئے "فاتح نماز گاہی " بن گئی ۔بالآخر سلطان نے اپنی لاڈلی فوج ینی چری کا ایک بڑا دستہ اپنے ہمراہ لیا جس کی صف اول میں آغا حسن ،عبدالرحمٰن اور ریاض بیگ جیسے سپاہی شامل تھے۔یونانی اور رومی اس وقت تک بلکل ختہ ہو چکے تھے ان میں تازہ حملے کی تاب نہ تھی۔سلطان نے اپنے تازہ مہم پر روانہ ہونے سے پہلے اپنے وزیر خاص کو اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں روانہ کیا اور کہا کہ یہ وقت خاص دعاؤں اور روحانی امداد کا ہے۔سلطان کو اندیشہ تھا کہ آج اگر قسطنطنیہ فتح نہ ہوا تو کبھی نہیں ہوگا کیوں کہ آج حملہ آور اپنی پوری طاقت اور ہمت صرف کر چکا تھا۔عثمانی وزیر جب مرد خود آگاہ کے چھولیداری کے قریب پہنچا تو درہان نے ان کو اندر جانے سے روک دیا اور جانے کا منع کردیا لیکن عثمانی وزیر نے درہان کو ڈانٹا اور کہا میں ضرور مرشد سلطانی کی خدمت میں حاضر ہوکر سلطان کا پیغام پہنچائے گا۔یہ کہہ کر سلطانی فرستادہ چھولداری میں داخل ہوگیا اس نے دیکھا کہ ایک بزرگ سربجود اور دعا میں مصروف ہیں ۔عثمانی وزیر کے داخل ہونے پر سر اٹھایا اور مسکہراتے ہوئے کہا "جاؤ!۔۔۔۔قسطنطنیہ فتح ہوچکا ہے۔"عثمانی وزیر کو بزرگ کی بات پر یقین نہیں آیا اور بھاگتے ہوئے باہر نکلا دیکھا تو فصیل شہر پر اسلامی پرچم لہرا رہا تھا

دوسری طرف جنگ کا سماں تھا اور قسطنطین کو اپنی شکست نظر آرہی تھی جو اب تک بڑی بہادری سے اپنے بہادر ساتھیوں کے ساتھ لڑ رہا تھا اپنے ساتھیوں کی طرف سے حوصلہ چھوڑ دینے پر امید کا دامن چھوڑ بیٹھا تھا اور اس نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے بلند آواز سے پکارا۔

" کیا کوئی عیسائی نہیں ہے جو مجھے اپنے ہاتھوں سے قتل کر دے؟۔۔۔کیا کوئی عیسائی نہیں ہے جو مجھے اپنے ہاتھوں سے قتل کرے؟"

لیکن جب اس کو کوئی جواب نہیں ملا تو اس نے قیاصرہ روم کی پوشاک اتار کر پھینک دی اور عثمانی فوج کے بڑھتے سیلاب گھس کر ایک سپاہی کی طرح اور وہ لڑتے ہوئے مارا گیا۔سلطان محمد خان اپنے بہادر سالاروں اور معتمد کے ہمراہ گھوڑوں پر سوار ہوکر اسی منہدم فصیل کے راستے شہر میں داخل ہوا اور شہر کے بیچوں بیچ سے گزرتا ہوا "آیا صوفیا" چرچ کے پاس پہنچا ۔یہاں اس ستون کے پاس جس کے ساتھ ترکوں کی شکست کی پیشنگوئی منصوب تھی ،ہزاروں عیسائی پناہ گزین تھے۔دراصل عیسائیوں کے اعتقاد کی بنیاد ۔۔"ایک جوشیلے یا اختراع پرداز پادری کے الہام پر تھی جس نے بشارت دی تھی کہ ایک دن ترک قوم کے لوگ قسطنطنیہ میں داخل ہو جائیں گے اور رومیوں کا تعقب کرتے ہوئے اس ستون تک پہنچ جائیں گے جو شاہ قسطنطین کے نام سے منصوب ہے لیکن بس یہی ان کے مصائب کا نقطہء آغاز ہوگا کیوں اس وقت فرشتہ ہاتھ میں تلوار لئے نازل ہوگا اور اپنی آسمانی کے ذریعے قسطنطنیہ کی سلطنت ایک ایسے غریب آدمی کے حوالے کر دے گا جو اس وقت اس ستون کے پاس بیٹھا ہوگا۔فرشتہ اس شخص سے کہے گا یہ تلوار پکڑو اسے خدانود کا انتقام لو ۔۔بس اس حیات آفریں جملے کو سنتے ہی ترک فورا بھاگ کھڑے ہوں گےاور رومی فتح یاب ہوکر ترکوں کو مغلوب کر دیں گے ۔وہ ترکوں کو مغرب اور اناطولیہ سے ایران کی سرحدوں تک بھگا دیں گے۔(انگریز مورخ ایڈورڈ گین)


سلطان کا گھوڑا جب اس ستون کے پاس پہنچا تو قسطنطنیہ کے ہزاروں عیسائی سراٹھا اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھنے لگے ،انہیں توقع تھی کہ آسمانی فرشتہ ہاتھ میں تلوار لئے ابھی نازل ہوگا اور ترک سلطان اپنے ساتھیوں سمیت بھاگ اٹھے گا۔لیکن سلطان محمد خان اس ستون سے بھی آگے بڑھ کر سینٹ صوفیا کے دروازے تک پہنچ گیا نہ کوئی آسمان سے فرشتہ آیا نہ کوئی رومیوں کو شکست سے بچا سکا۔ سلطان نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ ظہر کی نماز آیا صوفیا میں پڑھیں گے چناچہ فوری طور پر آیا صوفیا کے حال سے عبادت کی نشستیں ہٹادی گئیں اور آیا صوفیا کے ہال میں سلطان محمد فاتح کے حکم پر اللہ اکبر کی صدائیں گونجنے لگیں ۔سلطان اور ان کے ساتھی خدائے واحد کی تسبیح وتقدس کے لئے سربجود ہوئے تو آیا صوفیا کے ہال میں ایک طرف کھڑے عیسائی پادریوں کی آہیں اور سسکیاں نکل گئیں ۔نماز سے فارغ ہوکر سلطان نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ جاکر قسطنطین کی لاش کو تلاش کریں ۔قسطنطین سینٹ رومانس کے دروازے کے نزدیک ہی لڑتا ہوا مارا گیا تھا ۔سب سے زیادہ کشت وخون سینٹ رومانس کے دروازے پر تھا جہاں اس وقت عیسائیوں کے لاشوں کے انبار پڑے تھے۔اس جگہ بہت سی لاشوں میں قسنططین کی لاش ملی جس کو صرف جسم پر دو زخم تھے۔سلطان کے سپاہی قسطنطین کا سر کاٹ سلطان کے پاس لے آئے اور اس طرح فتح قسطنطنیہ تکمیل کو پہنچی۔


935 views

Cricketnewspk

  • Instagram
  • YouTube
  • Facebook
  • Twitter

Subscribe cricketnewspk

© 2020 by cricketnewspk.com all rights reserved